کراچی 22جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستانی پارلیمان غیرت کے نام پر قتل اور جنسی زیادتی سے متعلق نئے مجوزہ قانونی مسودے پر بحث شروع کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کے قتل کے بعد یہ موضوع پاکستان بھر میں زیرِبحث ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والی قندیل بلوچ کو گزشتہ ہفتے اس کے بھائی نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستانی میڈیا پر یہ بحث مسلسل جاری ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قانون سازی کی جانا چاہیے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ارکان پارلیمان بھی ماضی میں ایسے قوانین متعارف کرانے کے مطالبات کرتے آئے ہیں، جن کے تحت خواتین پر تشدد یا انہیں غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جا سکیں، تاہم پاکستان میں حالیہ چند ہفتوں میں غیرت کے نام پر قتل کے پے در پے واقعات اورپھرقندیل بلوچ جیسی معروف ماڈل اور اداکارہ کی ہلاکت نے اس معاملے میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ پاکستانی ایوان زیریں اور ایوان بالا مشترکہ طور پر ان قانونی بلوں پربحث کر رہے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اگلے چندہفتوں میں منظور کر لیے جائیں گے اور ان کا اطلاق بھی فوری طورپرہو جائے گا۔پاکستانی پارلیمان سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار حسن مرتضیٰ بخاری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہاکہ اس وقت ایک کمیٹی ان بلوں کاجائزہ لے رہی ہے اور اس کے بعد یہ بل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جارہے ہیں۔ان کاتاہم کہناتھاکہ مگرہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس پورے عمل میں کتنا وقت درکار ہو گا۔ اس بل میں کیا کچھ تجویزکیاگیاہے۔ یہ کمیٹی کی جانب سے اسے پارلیمان میں پیش کرنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں حکمران مسلم لیگ(ن)کو اکثریت حاصل ہے، جب کہ کہا جا رہا ہے کہ ان قانونی بلوں کو سینٹ کی حمایت بھی حاصل ہے لہٰذا بلوں کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔اس عہدیدار نے تاہم کہا کہ ان بلوں کے ذریعے ملکی قانون میں موجود سقم ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں عموماََخواتین کا کوئی رشتہ دارملوث ہوتاہے جب کہ موجودہ قانون کے تحت مقتولہ کے اہل خانہ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ قاتل کو معاف کر دیں۔ خیال کیاجارہاہے کہ نئے قوانین میں یہ حق ختم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔